Subscribe:

Ads 468x60px

Pages

Wednesday, 6 May 2015

تھکی تھکی سی آس ہے ، یہ دِل بہت اداس ہے

تھکی تھکی سی آس ہے ، یہ دِل بہت اداس ہے
کوئی تو درد راس ہے ، یہ دل بہت اداس ہے


یہ تو ہے یا لُٹا پٹا ہوا کوئی خیال ہے
کوئی تو آس پاس ہے، یہ دل بہت اداس ہے


ہر ایک ایک سے یہی پکڑ کے پوچھتے رہے
کہاں وہ غم شناس ہے، یہ دل بہت ادس ہے


کبھی کبھی تو سوچتے ہیں بس یہی کہے چلیں
 یہ دل بہت ادس ہے، یہ دل بہت اداس ہے


عجیب طرح کے وسوَسوں میں گھر گئی ہے زندگی
امید ہے نہ آس ہے، یہ دل بہت اداس ہے


نہ جاؤ جسم پر سجے ہوئے حسیں لباس پر
بدن تو خوش لباس ہے، یہ دل بہت ادس ہے

کبھی یا دآئیں تو پوچھناذرا اپنی خلوتِ شام سے

کبھی یا د آئیں تو پوچھنا ذرا اپنی خلوتِ شام سے
کسے عشق تھا تیری ذات سے، کسے پیارتھا تیرے نام سے

ذرا یاد کر کہ وہ کون تھا، جو کبھی تجھے بھی عزیز تھا
وہ جو جی اٹھا تیرے نام سے، وہ جو مرمِٹا تیرے نام سے

ہمیں بے رُخی کا نہیں گِلہ، کہ یہی وفاؤں کا ہے صِلہ
مگر ایسا جرم تھا کون سا، گئے ہم دعا و سلام سے

نہ کبھی وصل کی چاہ کی، نہ کبھی فراق میں آہ کی
کہ میرا طریقہ بندگی ہے، جدا طریقہ عام سے