Subscribe:

Ads 468x60px

Pages

Wednesday, 6 May 2015

تھکی تھکی سی آس ہے ، یہ دِل بہت اداس ہے

تھکی تھکی سی آس ہے ، یہ دِل بہت اداس ہے
کوئی تو درد راس ہے ، یہ دل بہت اداس ہے


یہ تو ہے یا لُٹا پٹا ہوا کوئی خیال ہے
کوئی تو آس پاس ہے، یہ دل بہت اداس ہے


ہر ایک ایک سے یہی پکڑ کے پوچھتے رہے
کہاں وہ غم شناس ہے، یہ دل بہت ادس ہے


کبھی کبھی تو سوچتے ہیں بس یہی کہے چلیں
 یہ دل بہت ادس ہے، یہ دل بہت اداس ہے


عجیب طرح کے وسوَسوں میں گھر گئی ہے زندگی
امید ہے نہ آس ہے، یہ دل بہت اداس ہے


نہ جاؤ جسم پر سجے ہوئے حسیں لباس پر
بدن تو خوش لباس ہے، یہ دل بہت ادس ہے